پاکستان کا انتظار کب ختم ہو گا

ہر اولمپکس کے بعد ایک بار پھر انتظار۔ اس انتظار میں 24 برس بیت چکے ہیں اور اس سوال کا جواب اب بھی کسی کے پاس نہیں کہ پاکستان اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں دوبارہ تمغہ جیتنے میں کب کامیاب ہوسکے گا؟
پاکستان نے اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں آخری بار سنہ 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی کا تمغہ جیتا تھا جب کہ پاکستان کا آخری تمغہ سنہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں ہی تھا جس میں اس نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
بارسلونا کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم پانچ اولمپکس میں شریک تو رہی لیکن کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ ہونے کے باوجود کم از کم اس بات کی ہی خوشی رہتی تھی کہ وہ اولمپکس میں موجود تو ہے لیکن ریو اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرنے کے نتیجے میں شرکت برائے شرکت کی برائے نام خوشی بھی چھن چکی ہے۔
لاس اینجلس اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کے کپتان منظور جونیئر کہتے ہیں ’کسی نے کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ پاکستانی ہاکی اس بد ترین مقام پر آجائے گی۔ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن اس ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے جس سسٹم کی ضرورت ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔
منظور جونیئر کہتے ہیں کہ ملک بھر میں اکیڈ میز تو بنا دی گئیں لیکن اگر وہ صحیح طریقے سے کام کرتیں تو آج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ انھوں نے موجودہ فیڈریشن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سنہ 2018 اور سنہ 2022 کو ذہن میں رکھ کر منصوبہ بندی کرے۔ اگر ہاکی فیڈریشن آج منصوبہ بندی کرے گی تو اس کا نتیجہ آنے والے دنوں میں اچھا مل سکتا ہے۔ فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے تیار کرے۔
منظور جونیئر کا کہنا ہے ’قومی اکیڈمیز میں ان کوچز کو مقرر کیا جائے جن کو ہاکی کی سمجھ بوجھ ہو اور وہ اس کھیل سے مخلص ہوں اور اپنی پسند کے لوگوں کو نہ نوازا جائے۔
پاکستانی ہاکی کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال میں یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اختر رسول اور قاسم ضیا اپنے دور کے بہترین کھلاڑی تھے لیکن جب وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے تو انتظامی معاملات میں بری طرح کیوں ناکام ہوگئے؟۔
منظور جونیئر اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں ’اختر رسول اور قاسم ضیا دونوں اپنے سیکریٹریز آصف باجوہ اور رانا مجاہد کے ہاتھوں یرغمال بن گئے تھے حالانکہ انھیں اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی بھی غلط اقدام یا فیصلے کی تائید نہیں کرنی چاہیے تھی۔
منظور جونیئر کو موجودہ فیڈریشن خاص طور پر سیکریٹری شہباز احمد سے بڑی امیدیں ہیں کہ وہ قومی ہاکی کو اس کے پرانے مقام پر لانے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔
شہباز احمد کا شمار پاکستانی ہاکی کی تاریخ کے کامیاب کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے سنہ 1994 میں ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی جیتی تھی۔ سنہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستانی ٹیم نے انھی کی قیادت میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
شہباز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہاکی کے زوال کی ایک وجہ نہیں ہے۔ ماضی کی فیڈریشنز پر بھی اس کی ذمہ داری عائد کی جاسکتی ہے کیونکہ انھوں نے صحیح منصوبہ بندی نہیں کی۔ فیڈریشنز کو حکومت کی بھرپور سرپرستی بھی حاصل نہیں رہی تھی جب کہ اداروں میں ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملنا بھی بند ہوگئیں۔
شہباز احمد کو بحیثیت کھلاڑی اولمپک گولڈ میڈل نہ جیتنے کا اب بھی افسوس ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جو کمی کھلاڑی کی حیثیت سے رہ گئی وہ کوشش کریں گے کہ اسے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں رہ کر دور کر سکیں اور پاکستانی ٹیم دوبارہ فاتح عالم کے طور پر پہچانی جائے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں