تحصیل فتح جنگ کے قطبال گاوٗں میں سکھ دور کی چند باقیات

قطبال تحصیل فتح جنگ میں ایک تاریخی گاؤں ہے. پنجاب میں سکھ حکومت کے دوران یہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا اورقطبال ،اٹک ضلع میں اور فتح جنگ میں کاروبار اور دیگر شہروں میں کاروباری کنٹرول ہندو تاجروں کے ھاتھوں میں تھا۔
آزادی کے بعد ہندوؤں اور سکھوں بھارت ہجرت کر گےٗ. آج قطبال گاوٗں میں مغل، اعوان ،کھٹڑ اور دیگر ذاتوں کے خاندان آباد ہیں. قاضی عارف، جوکہ گاؤں کے مذہبی رہنما ھیں نےاس بات کی تصدیق کی کہ گاؤں کی آبادی تقریبا 5000 ہے۔

سکھ اور برطانوی ادوار کے دوران تعمیر کیا یادگاروں میں سے کچھ اب بھی باقی ھیں۔ قطبال میں موجود اس سمادھی میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس میں خواتین کے لئے ایک چھوٹا سے مخصوص علاقے کے ساتھ، غسل کے لئے ہندوؤں کی طرف سے استعمال کیا جاتا تھا۔ جوکہ اب موجود نھیں ھے۔
یہ مندرایک اندازے کے مطابق شلالیھ سنگھ نے اپنے والد نارائن سنگھ کی یاد میں اس عمارت کوانیس سو چوبیس میں تعمیر کیا ۔

اٹک کے فنکاروں میں عام طور پر یہ فن تعمیر مسلمان قبروں پر پایا جاتا ہے جنکے نمونے اٹک کے دیگر گاوٗں کوٹ فتح خان،مکھڈ شریف،بسال اور پنڈی گھیب کے علاقون میں پاےٗ جاتے ھیں۔ اٹک میں اس فن تعمیر کی اب کچھ ھی عمارتیں باقی بچی ھیں۔لیکن اس عمارت کی طرح کا کام اٹک میں موجود دیگر تاریخی عماعتوں میں نہیں ملتا۔
سماد کے مرکزی دروازے کے ساتھ موجود دو خٓانے تیل لیمپ رکھنے کے لئے استعمال کیے جاتےتھے۔ جس میں دونوں دروازے کے دونوں طرف باےٗ گےٗ تھے

تاہم، یہ ایک متاثر کن ڈھانچے والی حویلی ہے. یہ ایک دو منزلہ عمارت ھے اور فریسکو انداز میں اندر پر پینٹنگز کے ساتھ ساتھ کے طور پر باہر سے سجایا گیا ہے

فتح جنگ تحصیل کے علاوہ پورے پوٹھوھار میں ایسی کوئی شاندار حویلی نہیں ہے

“عمارت کے مالک بھارت ہجرت جب کر گےٗ توحویلی کو گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول میں تبدیل کر دیا گیا تھا،” محمد رمضان مغل نے کہا

پینٹنگ کے کام کوبہت اب نقصان پہنچا ہے. حویلی کے اگواڑا پر پھولوں کی پینٹنگز ایک بری حالت میں ہیں. حویلی کی لکڑی کے دروازے

تمام چلے گئے ہیں. کھڑکیوں اور حویلی کی چھت پرجوکہ لکڑی سے بنایٗ گیٗ بری حالت میں ھے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں