گورردوارہ بابا تھان سنگھ

تصاویر:ہارون اینڈ عادل

کوٹ فتح خان ضلع اٹک اور تحصیل فتح جنگ کا ایک بہت اہم گاوٗں ہے۔یہ گاوٗں سکھ اور مسلمان دونوں ادوار کی یادگاریں رکھتا ہے۔

تین گنبدوں والی مسجد ،جوکہ برطانوی دور میں سردار فتح خان نے تعمیر کی تھی،گاوٗں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔اور دور سے نظروں کو بھاتی ہے۔

سردار فتح خان برطانوی دور کے ایک بہت اہم علاقاییٗ سردار تھے۔

تین گنبدوں والی مسجد کے علاوہ ،برطانوی ادوار میں بناییٗ گیٗ سکھوں کی عمارتیں کوٹ فتح خان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔

سکھوں کی تین عمارتیں جن میں ایک گوردوارہ اور دو سمادھیاں شامل ہیں ،کوٹ فتح خان گاوٗں کے مغرب میں واقع ہیں۔

برطانوی دور میں گاوٗں بابا تھان سنگھ کے اچھے برتاوٰ کی وجہ سے سکھ کمیونٹی کے لیے بھاییٗ چارے کا مرکز تھا۔

سکھ برادری بیساکھ(اپریل۔میٗ) کے مہینے میں کوٹ فتح خان میں بابا تھان سنگھ کے میلے پر جمع ہوتی تھی۔

راولپنڈی کے ایک شمارے کے مطابق ۱۸۹۳ میں چار سو لوگ اس میلے میں شریک ہوےٗ۔

تھان سنگھ کی سمادھی ،دومنزلہ ایک خوبصورت عمارت ہے۔ اس کے تین داخلی راستے ہیں۔ ایک مشرق ،مغرب اور تیسرا شمال میں ہے۔ جنوبی دیوار گوردوارہ کی دیوار کی وجہ سے بند ہوگیٗ ہے۔

مین صحن جو کہ مشرق کی جانب ہے ۔ سفید سنگ مرمر سے بنا ہوا ہے۔ اندرونی عمارت جہاں تھان سنگھ کی سمادہی ہے۔ایک دروازہ ہے جہاں گورمکھی طرز تحریر کی تحریریں ملتی ہیں۔

سمادھی کا دروازہ ماربل کی سلیبوں سے سجایا گیا ہے جوکہ اس کی تعمیر کے لیے عطیہ کر نے والوں کے ساتھ ساتھ ان کی عطیہ کی گیٗ رقم کو بھی ظایر کرتی ہیں۔

آج کی مسلمان ،پرانے لوگوں سمیت اسے بابا تھانا اور سلطان بلاتے ہیں جبکہ مقامی بولی میں اسے ڈھیری بھی بلاتے ہیں۔

مسلمان آبادی بھی اس کی زیارت کرتی ہے اور ان سکھ مزاروں سے مناجات مانگتے ہیں۔

گاوٗں کے رہایٗشی افراد کے مطابق

“اگر ہماری خواہشیں پوری پوگیٗں تو ہم سمادھی پر مٹھایٗیاں اور پکے چاول تقسیم کریں گے”

یہ مزار کی ایک دوطرفہ شناخت ہے۔ایسی دوطرفہ شناخت ساوٗتھ انڈیا اور سندھ میں بھی ملتی ہے لیکن خطہٗ پوٹھوہار میں صرف یہی ایک سکھ سمادھی ہے جہاں مسلما ن بھی آتے ہیں۔

سمادھی کا جنوبی حصہ گوردوارہ کی عمارت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ گوردارہ کی اہم خصوصیت اس کی سٹاوٗ کوڈیکوریشن اور اس کی لکڑی بنی ہوییٗ چھت اور سیڑھیاں ہیں۔لیکن بدقسمتی سے یہ عمارت اب بہت بری حالت میں ہے۔

سمادھی کے مشرق میں کچھ پینٹنگز ہیں جوکہ سکھ اور ہندو ثقافت اور رسم ورواج کو ظاہر کرتی ہیں۔ مشرقی طرف کے کونے پندو خداوٗں ، سکھ گرووٗں اور حکمرانوں کی تصویروں سے بنے ہوےٗ ہیں۔

گوردوارہ کی چھت پر ایک مذہبی رنگ ڈانس کی تصویر میں ہندو خدا کرشناء کی تصویر اپنے گوپیوں کے ساتھ بنی ہوییٗ ہے۔

تین پینٹنگز بنی ہوییٗ ہیں جوکہ کرشناء کو ظاہر کرتی ہیں۔

ایک پینٹگ میں کرشناء میں اپنے پیروکارو ں کو خدا کے طوفان سے بچانے کے لیے ایک چٹان (گواردن ) اٹھاےٗ یہں۔

اس کے داییں طرف ہندووٗں کا خدا(اندرا ہاتھی کے منہ والا) بنا ہوا ہے ۔

یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ایسا کوییٗ آرٹ کا نمونہ سکھ یا ہندو مذہب کا خطہٗ پوٹھوہار میں نہیں ملتا۔ لیکن یہ پینٹگز بھی اب بہت بری حالت میں ہیں۔

جنوبی دیوار پر ہندو خدا “وشنو” کی تصویر سے بنی ہوییٗ یے۔

مشہور ہندو تخلیقی کہاوت کے مطابق ،وشنو کایٗنات کی تخلیق سے پہلے کایٗنات کی تہوں میں پڑا ہوا تھا ۔ پینٹنگ میں وہ کوبرا یا شیش ناگ کے سروں پر سویا ہوا دکھایا گیاہے۔

وشنو کی ناف سے اوپر کی طرف شاخیں نکلی ہوییٗ ہیں جن پر خدا براہما بیٹھا ہوا ہے۔

جس نے بعد میں کایٗنات بناییٗ۔ اس طرح کی تصویریں خطہ پوٹھوھار میں دیگر سمادھیوں میں بھی ملتی ہیں۔

ایک جگہ بابا گورونانک اپنے چیلوں “بالا” اور “مردانہ” کے ساتھ ایک تصویروں میں دکھاےٗ گےٗ ہیں ۔

بابا گورونانک کی تصویر کے علاوہ گورو گوبند کی تصویر بھی مغربی دیوار کے ساتھ بنی ہوییٗ ملتی ہے۔

بدقسمتی سے لوگوں نے تمام تصویروں کو بد شکل کر دیا ہے۔ اب ایک بھی تصویر اپنی اصل حالت میں نہیں ملتی۔

متعلقہ حکومتی اداروں اور محکموں کو خطہٗ پوٹھوہا ر کی ان تباہ ہوتی ثقافتی ورثہ کی عمارتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

ان کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے ایک پلاننگ ترتیب دینی چاہیے ۔ نہیں تو تحصیل فتح جنگ جوکہ سکھ اور مسلمان دونوں ادوار کے حوالے سے سیاحت کا ایک پوٹینشل رکھتی ہے اپنی اس خصوصیت کو کھو بیٹھے گی۔

Video

Pictures

 fatehjangcity-com_16cff2e6-8f16-4582-8e60-ad1966b115a3242016161344_medium

fatehjangcity-com_54ff7d4c-6fe6-4047-9fa5-cb17682e5cc6242016161324_medium

fatehjangcity-com_429e83ca-0c8c-4741-affc-52516c54048f242016161319_medium

fatehjangcity-com_01f66660-3411-4110-8126-728a9f9787c9242016161317_medium

fatehjangcity-com_fceef911-7943-4d2f-b0f9-803ad2688994242016161340_medium

fatehjangcity-com_e0ddca18-e417-4fd3-b2f8-90f78736e2f0242016161329_medium

fatehjangcity-com_d98893b6-90c0-47d1-aedd-8f375a92133d242016161338_medium

fatehjangcity-com_d88fa92f-c8dd-4e6a-99f8-f13ebe737f89242016161336_medium

fatehjangcity-com_d0ed0397-1f24-42cf-ae5a-58ab7293da8f242016161331_medium

fatehjangcity-com_b191e518-614a-46e9-8002-f95f97dd402d242016161322_medium

fatehjangcity-com_a7ae32e8-a502-42d3-bb80-3144e9cc43ca242016161311_medium

fatehjangcity-com_2649088c-0e5d-469d-b548-fa80481f17ad242016161332_medium

fatehjangcity-com_429e83ca-0c8c-4741-affc-52516c54048f242016161319_medium

fatehjangcity-com_88bdd194-4855-415b-bb5f-f41386bcd501242016161321_medium

fatehjangcity-com_67e30633-627d-48c3-ae98-0a0dfb69381c242016161327_medium

fatehjangcity-com_21c086d6-9f6d-480c-9311-998f8707ccd0242016161315_medium

fatehjangcity-com_8dc4456b-e9a7-4ab2-8c92-f81614225b56242016161334_medium

fatehjangcity-com_6e87dbc7-cfc1-477b-ace8-3e0078a2c79f242016161342_medium

fatehjangcity-com_6bfda69f-92b7-4079-ad96-49cfcd332e5c242016161313_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں