تاریخی جامع مسجد کوٹ فتح خان

ریسرچ:جاوید علی کلہوڑو اور ڈاکٹر جہانگیر احمد صدیقی
ترتیب و تدوین:عادل یوسف

کوٹ فتح خان کی خوبصورتی کو اس کی مسجد کے مینار چارچاند لگا دیتے ہیں جو کہ 1860ء میں تعمیر کی گیٗ ہے
سردار فتح خان نے جو کہ برطانی دور کے اپنے علاقہ کے سردار تھے،اس مسجد کی بنیاد رکھی جو کہ آج  گاوٗں کی ایک پہچان بن چکی ہے۔

سردار فتح خان، کوٹ فتح خان کے ایک نامور سردار تھے۔ ان کا خاندان گھیبہ خٓاندان کہلاتا ہے۔
گھیبہ خاندان کے آباوٗ اجداد کا تعلق مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے شروع ہوتا ہے۔

ڈاکٹر جہانگہر صدیقی صاحب کے مطابق گھیبہ خاندان اور جودڑہ راجپوت خاندان کے جد امجد ملک امانت نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اولاد میں سے مہان سنگھ نامی سکھ نامی حکمران سے سترہ روپے میں پورا علاقہ خریدا تھا جس کی حددو پانچ ضلعوں پر مشتمل تھی۔
کھیری مورت اور کالا چٹا کے  پہاڑی سلسلے کا درمیانی علاقہ اور جہلم سے لیکر ترنول تک کا علاقہ اس سٹیٹ میں شامل تھا۔
جوکہ بعد میں آنے والی نسلوں تک بھی تقریبا اتنا ہی تھا۔
اس پوری سلطنت کا مرکزی مقام پنڈی گھیب تھا جس کی گواہی پنڈی گھیب میں ملنے والی مختلدف پرانی عمارتیں ہیں۔
بعد میں اسی خاندان کے بڑوں میں نا اتفاقی سے ایک خاندان کوٹ فتح خان میں آکر آباد ہوگیا۔ کوٹ فتح خان میں اسی خاندان کی ایک ذیلی شاخ اباد ہے۔
پنڈی گھیب والا خاندان راجپوت جودڑہ کہلاتا ہے جبکہ کوٹ فتح خان میں آباد ہونے والا خاندان گھیبہ کہلاتا ہے۔
پنڈی گھیب اور کوٹ فتح خان میں ملنے والی حویلیاں تقریبا ایک ہی طرز تعمیر کے تحت تعمیر کی گیٗ ہیں۔ جن میں پتھر کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
اینٹوں کی تعمیر سے مزین یہ عمارتیں آج بھی اپنی دلکشی میں ایک مثال ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق ان عمارتوں کی تعمیر میں سیمنٹ کا استعال نہیں کیا گیا ہے۔ سرخ ریت کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کے مطابق ماش کی دال بھی استعمال کی گیٗ بطور کنسٹرکشن مٹیریل ۔ اس کو آج بھی اکھیڑنا نا ممکن ہے۔
اینٹیں بھی ایک سایٗز اور وزن کی بناییٗ گیٗ ہیں۔
اس وقت تعمیر کی گیٗ تمام حویلیوں کے ساتھ مساجد بھی تعمیر کی گیٗ تھیں۔  جامع مسجد کوٹ فتح خان بھی اسی زمانے میں سردار فتح خان نے اپنی حویلی کے ساتھ تعمیر کراییٗ تھی۔
مسجد کے ساتھ ملحقہ حویلی میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے بھی قیام کیا تھا۔

اسی طرز تعمیر کی مساجد خطٗہ پوٹھوہار کے دیگر علاقوں میں  بھی ملتی ہیں

یہ ایک مربع شکل کی ہے جس کے تین گنبد اور دو مینار ہیں مسجد کا طرز تعمیر بادشاہی مسجد سے ملتا جلتا ہے جوکہ مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کی تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق،سردار فتح خان نے اس مسجد کو تعمیر کرنے کے لیے اٹک شہر سے معماروں کو بلایا تھا۔
اس وقت اٹک مقامی  ثقافت اور تہذیب کا ایک مرکز تھا۔اٹک کے معمار اس وقت شاندار طرز تعمیر کے لیے مشہور تھے۔ان کا کام ان کے جدید طرز تعمیر میں اب بھی دکھایٗ دیتا ہے۔
مسجد کا مین جھروکا اس مسجد کے ماتھے کا جھو مر ہے جو کہ خط پوٹھوھار کی کسی اور مسجد میں نہیں ملتا سواےٗ کلرسیداں میں موجود کھیم سنگھ بیدی کی حویلی کے۔
اٹک  کے معماروں کا طرز تعمیر خطے کے دیگر معماروں کے طریقہ کام کو بھی ظاہر کرتا تھا۔ کچھ مندر اور گردوارے جو کہ اٹک کے معماروں نے تعمیر کیے تھے،حضرو،مکھڈ شریف اور کوٹ فتح خان میں موجود ہیں
سردار محمد نواز خان، جوکہ سردار فتح خان کی اولاد میں سے تھے،نے مسجد کے میناروں کو بعد میں دوبارہ تعمیر کرایا  جوکہ 1930ء میں  تباہ ہوگے تھے۔
پوٹھوھار میں تکونی طرز تعمیر کی بہت سی مساجد موجود ہیں۔ ان مساجد میں  مایٗ قمرو کی باغ جوگیاں،اسلام آباد،جامع مسجد راولپنڈی اور واہ گارڈن کی مسجد کافی مشہور ہیں۔
کوٹ فتح خان مسجد کی نمایاں خصوصیت اس کی پینٹنگز ہیں۔اندر سے مسجد خوبصورت رنگوں سے سجایٗ گی ہے۔ مسجد کا مین دروازہ جعروکہ کہ کی طرح طرز تعمیر سے بنایا گیا ہے جوکہ داخلی راستے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔سیڑھیاں مسجد کے مین صحن تک لے جاتی ہیں۔
تین پگڈنڈیاں مسجد کے ہال کی طرف رھنماییٗ کے لے جاتی ہیں۔
فتح جنگ تحصیل سیاحت کے لیے کافی اٹریکشن رکھتی ہے۔
تحصیل میں ٹوارزم کو فروغ دینے کے لیے حکومت وقت کو کوٹ فتح خان جیسے گاوٗں کو اینا ثقافتی ورثہ قرار دے دینا چاہیے جوکہ سکھ اور مسلمان دونوں کے ادوار کی نمایٗندگی کرتاہے اور اس کے ثبوت وہاں اب بھی موجود عمارتیں ہیں۔

fatehjangcity-com_16a26e28-63ce-4aaa-a09d-8cb6d70f80b524201616142_medium

fatehjangcity-com_17e1064c-61d7-49b9-8e4f-22302fb7aaa324201616148_medium

fatehjangcity-com_6326ba89-a66c-425f-b650-b02e52baf7d0242016161354_medium

fatehjangcity-com_30791ca2-2273-47be-8d40-c0c004d90c27242016161356_medium

fatehjangcity-com_59192f45-d7b5-45d6-aa0c-ec286c896fed24201616140_medium

fatehjangcity-com_870184bb-424c-4087-bbd4-39e64ea988a3242016161346_medium

fatehjangcity-com_aa866dc9-a8c3-4628-bf53-e5c4ded06af1242016161358_medium

fatehjangcity-com_b4ec11c5-1c82-4b19-97e7-f6397b92caf2242016161350_medium

fatehjangcity-com_bc7ddfa4-24f3-4d2b-a271-7e634ee4741d24201616144_medium

fatehjangcity-com_c9c011af-c324-4d9d-8484-b0b8925f930d24201616146_medium

fatehjangcity-com_e3d1ab04-7f56-4314-b439-40796e018af8242016161352_medium

fatehjangcity-com_f06cee3e-960a-4fc8-816e-0249807ca07d242016161348_medium

fatehjangcity-com_984f91f6-9f6a-4890-925a-359964ff59da222016151327_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں