فتح جنگ کی تاریخی مسجد اندرکوٹ

اندر کوٹ کے لفظی معنی “بڑے قلعے کے اندر چھوٹے قلعے “کے ہیں۔

اندر کوٹ مسجد فتح جنگ کی ایک تاریخی مسجد ہے جوکہ گرلز ہاییٗ سکول نمبر ایک فتح جنگ( پانی والی گلی ) کے محلے میں واقع ہے۔

مسجد کی تعمیر ایک تاریخی حوالے کے مطابق” خدادا خان” کی اولاد میں سے آنے والوں  نے کی تھی جوکہ خاندان غلامان کے دور میں  دریاےٗ سندھ کے کناروں سے آکر کالا چٹا پہاڑوں کے درمیان آکر آباد ہوےٗ تھے۔

اندر کوٹ مسجد کے اردگرد میں ہندوٗوں کی بھی آبادی تھی جس کے آثار مندر ، ماڑیاں اور ملنے والے مختلف چوبارے ہیں۔ اور جن کے بارے میں تاریخی حوالوں سے بھی ہندو خاندانوں کی ملکیت کے ثبوت ملتے ہیں۔

فتح جنگ کے کاروبار پر تاریخ کے مطابق ہندو برادری کے افراد چھاےٗ ہوےٗ تھے جوکہ تجارت سے لیکر مقامی سیاست میں  بھی اثر انداز ہوتےتھے۔ شہر میں کیٗ پرانی حویلیاں اور مکانات ان ہندو برادری کے افراد کی ملکیت تھے جو کہ تقسیم ہند کے بعد مسلمان مہاجرین اور مقامی افراد کو الاٹ ہوگےٗ۔ ان مکانات اور حویلیوں کے بارے میں تفصیل سے انشاءاللہ اگلے آرٹیکلز میں بتایا جاےٗ گا۔

پرانی تاریخی حوالوں میں اگرچہ پنڈی گھیب کی تاریخ کے علاوہ  فتح جنگ کا کہیں ذکر نہیں ملتا لیکن مسجد کے ساتھ ملحقہ خداداد خان کی حویلی کی وجہ سے یہ معلوم پڑتا پےکہ یہ مسجد بھی اسی خاندان نے تعمیر کراییٗ تھی جوکہ دو مختلف ادوار میں مکمل ہوییٗ۔

پہلے دور میں مسجد کی تعمیر مغلیہ طرز تعمیر کے تحت کی گیٗ جوکہ مسلم طرز تعمیر ہے اور اس طرز تعمیر کی عمارتوں میں مشہور  قطب مینار دہلی  کے ساتھ ملحقہ مسجد عہد الاسلام دہلی والی ہے جو کہ مضبوط پتھروں سے تعمیر کی گیٗ ہے ۔ پتھروں کی تعمیر اس دور کے افراد کی جفاکشی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اور ان عمارتوں کو دیکھ کر ایک بھرپور مردانہ وجاہت کا تصور بھی ملتاہے۔ پتھروں کی دیواروں میں کوییٗ پلاستر بھی  نہیں کیا گیاہے ۔

ایسی مضبوط پتھروں والی مسجد فتح جنگ تحصیل کے نواحی گاوٗں” مہورہ” میں بھی موجود ہے۔

مسجد کی تعمیر کے دوسرے دور میں جوکہ مغلیہ دور ہی تھا، اس میں اس مسجد کے بناوٗ سنگھار کی طرف زیادہ توجہ دی گیٗ۔ جس میں اس کے اندر پچی کاری اور کاشی کاری کاکام کیا گیا۔ دیواروں پر بیل بوٹوں کے عمدہ ڈیزایٗن بناےٗ گےٗ  جوکہ آج بھی مسجد کی دوبارہ مرمت کے کام کے باوجود آنکھوں کو بھلے محسوس ہوتے ہیں۔ اور جن کو پرانے انداز میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گیٗ ہے۔

مسجد کی دیواریں مضبوط پتھروں سے بناییٗ گیٗ ہیں جن کی مشابہت”دہلی کی سنہری مسجد چاندنی چوک والی ” سے ملتی ہے۔ اور پاکستان میں اسی طرز کی مساجد مکھڈ، کوٹ فتح خان اور واہ کینٹ میں اب بھی موجود ہیں۔ جن میں اس زمانے کے طرز تعمیر کے مطابق موٹی دیواریں،کاشی کاری اور پچی کاری کا کام کیا گیا ہے۔ یہ مساجد ایک گمان غالب کے مطابق مقامی زمیندار حضرات اپنی ریاٗش گاہوں کے ساتھ اس مقامی سٹینڈرڈ کے مطابق بنواتے تھے۔ جن کی مثال واہ کینٹ میں “نواب محمد حیات خان ” کی حویلی کے ساتھ ملحقہ مسجد اور “کوٹ فتح خان” کی فتح مسجد ہے۔

اندرکوٹ مسجد کے معمار حس ابدال کے تھے جن کے ناموں کے  بارے میں محراب کے اوپر موجود کندہ تحریوں  سے پتہ چلتا ہے جوکہ اب مسجد کے تعمیراتی کام کی وجہ سے چونے سےکور ہوگیٗ ہیں۔ ان تحریروں کے مطابق اس مسجد کی تعمیر۱۱۵۰

ہجری میں ہوییٗ جوکہ عیسوی سال کے مطابق ۱۱۳۷ء بنتی ہے۔

فارسی زبان میں کچھ رباعیات کے بھی  آثار ملتے ہیں اور اس مسجد کے طالبعلموں کے نام بھی فارسی زبان میں تحریر کیے گےٗ ہیں جوکہ اس کے پہلے طالبعلموں  کے طور پر داخل کیے گےٗ تھے۔

قاضی نصیر الحق صاحب اس مسجد کے منتظم تھے جوکہ جبی تالاب فتح جنگ کے کنارے مدفن ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی مسجد کے اردگرد قاضی خاندان کے افراد مقیم ہیں جوکہ قاضی نصیر الحق صاحب کی اولاد میں سے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق یہاں پرانے وقتوں کی ایک سرنگ کے آثار بھی ملتے ہیں جوکہ اٹک تک جاتی تھی لیکن اب اس سرنگ کو بند کردیا گیاہے اور اب اس کے آثار نہیں ملتے

مسجد کے بالکل سامنے ایک پرانی حویلی بھی موجود ہے جوکہ اب بند کردی گیٗ ہے ۔ اس میں پہلے ایک سکول بھی تھا اور مسجد کے اردگرد بہت سی پرانی عمارتیں اب بھی باقی ہیں اور کچھ ختم ہوگیٗ ہیں جن کے بارے میں انشاء اللہ اگلی تحریروں میں ذکر کیا جاےٗ گا

fatehjangcity-com_1cdac573-0e1a-4640-8e1e-f4741f8c181f242016161223_medium

fatehjangcity-com_7d76836a-8d3a-4fa3-9bd3-3bea15fd186d242016161225_medium

fatehjangcity-com_20b2fd7a-ad04-4c48-bf5f-ad9cb56e04ad242016161222_medium

fatehjangcity-com_73b6b271-a410-4f5d-800e-02a768083cd5242016161227_medium

fatehjangcity-com_284cf68f-e102-42ac-bc9b-f3bfb2f066d8242016161228_medium

fatehjangcity-com_625ec615-40bd-4bd1-8f15-be8ee8a124a2242016161226_medium

fatehjangcity-com_6417e284-d5fa-4944-84df-c2e585b712f9222016151324_medium

fatehjangcity-com_5810998d-79f1-4d38-83db-825c92bce064242016161233_medium

fatehjangcity-com_a8e9b19c-82b3-40d2-a1c6-772f7a74197c242016161232_medium

fatehjangcity-com_a1131130-8112-4218-9d3c-dc693a2879cb242016161224_medium

fatehjangcity-com_aafe6697-fd09-4e29-8292-f4859879ccf1242016161231_medium

fatehjangcity-com_d2ef8e2d-5af0-4261-943a-cedbcc2a0819242016161229_medium

fatehjangcity-com_e82ef6d8-fba5-4ff6-ac6d-9748afa7fb09242016161230_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں