فا روق ہوٹل جو پہلے ایک ہندو کی ملکیت تھا

فاروق ہوٹل فتح جنگ جوکہ فت حجنگ کی ایک تاریخی عمارت ہے۔ فاروق ہوٹل مرکزی جامع مسجد مین بازار فتح جنگ کے بالکل ساتھ ہی واقع ہے۔

فاروق ہوٹل ایک روایتی چاےٗ خانے کے طور پر کافی عرصے سے قایٗم ہے۔ فاروق ہوٹل پرانی عمر کے افراد کے لیے ایک گپ شپ کی جگہ کے ساتھ ساتھ پرانی تمباکو والی چلم سے لطف انداز ہونے کا بھی ایک مرکز ہے جسکی نیٗ شکل اب نوجوان نسل میں مقبول شیشہ کی ہے۔

پرانی عمر کے دیہاتی حضرات اور دیگر اس چاےٗ خانے میں اپنی یادوں کو تازہ کرتے نظر آتے ہیں اور اپنی پریشانیوں کو ایک طرف رکھ کر قہقہے بکھیرتے ہیں۔

فاروق ہوٹل کی عمارت ڈاکٹر آصف جہانگیر خان صاحب کے مطابق پہلے ایک ہندو چاندی مل کی ملکیت تھی جوکہ کھتری قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ چندی مل کی یہاں ہارڈ ویٗر کی دوکان تھی۔

چندی مل تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان چلے گےٗ ۔

اس دوران تشکیل پاکستان کے بعد کی تاریخ نہیں ملی کہ اس عرصے کے دوران عمارت کس کی ملکیت تھی۔ عمارت کے موجودہ مالک اور فاروق ہوٹل کے روح رواں محمد فاروق ولد فضل داد کے مطابق انہوں نے یہ عمارت 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے دو مہینے پہلے ٖخریدی تھی۔ یہ عمارت آج بھی اپنی اسی شکل میں موجود ہے۔ اس کی چھت دیار کی لکڑی سے بناییٗ گیٗ ہے جوکہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔

ہوٹل کے اندر مشرقی سایٗیڈ پر پانی کی ٹینکی بناییٗ گیٗ ہے جبکہ اندر داخل ہونے کے رستے کے ساتھ ہی چاےٗبنانے کے لیے چولہے نصب ہیں جہاں ہوٹل کے ما لک چاچا فاروق گاہکوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ساتھ ساتھ برتنوں کی دھلاییٗ کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔

ہوٹل کی بجلی کی سپلاییٗ کے لیے نصب وایٗرنگ بھی پرانے زمانے کی ہے اور اس پر جما دھواں اور گرد بھی اس کے پرانے ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔

عمارت کی چھت کے سامنے خطہٗ پوٹھوہار کی روایتی لکڑی کی بنی ہوییٗ خوبصورت ” مڑھنی “ہے جوکہ آج بھی دیدہ زیب بمعلوم ہوتی ہے۔

ہوٹل کی الماریاں اور کھڑکیاں اپنے نصب کے وقت سے ابھی تک موجود ہیں اورر فرنیچر بھی بدلنے کی ضرورت نہں پڑی۔

یہ عمارت جہاں روزانہ بہت سے لوگوں کے لیے عمدہ چاےٗ کا لطف لینےکا مقام وہیں یہ ایک اپنے اندر ایک تاریخ بھی رکھتی ہے۔ فتح جنگ کا پرانامرکز بھی یہی مرکزی بازار تھا۔ گردش زمانہ نے اب مرکزیت تو تبدیل کردی لیکن شہر کی تما م پرانی آبادی اور تاریخ یہاں اسی بازار کے اردگرد بسنے والوں کے دلوں میں اور صفحات میں موجود ہے۔

جوکہ ہمیں ہوٹل کے اردگرد کافی تعداد میں ملے اور دلچسب معلومات کا تبادلہ بھی کیا

fatehjangcity-com_2ec0d751-1d49-4a5c-9dab-55203906dd02242016161057_medium

fatehjangcity-com_5fd270a1-c39f-4e77-906c-979dcc058d87242016161113_medium

fatehjangcity-com_060fb45a-e21e-409a-8b16-64ee7c6ed300242016161110_medium

fatehjangcity-com_072d0b64-b649-44b9-9567-4c7b5119a869242016161114_medium

fatehjangcity-com_0371fd3b-2f7f-47b0-b441-5875bb332f81242016161116_medium

fatehjangcity-com_482e9de8-710d-49b8-8bab-37397b0b0d3b242016161112_medium

fatehjangcity-com_42356e8b-dd8a-4061-b619-0e4ca8e960da24201616118_medium

fatehjangcity-com_78299595-3b96-4e2c-b673-875de7058781222016151320_medium

fatehjangcity-com_ad02e0d8-2884-43d9-9cd0-efee1a2527e424201616111_medium

fatehjangcity-com_afaad7f9-f81d-48b6-866f-829472f5532224201616114_medium

fatehjangcity-com_b4f4c234-2a4b-4f51-a722-0bd20814048324201616113_medium

fatehjangcity-com_b59a7a11-90f2-4d54-bbcd-934a92329028242016161059_medium

fatehjangcity-com_f5037854-edcd-4c8f-98f8-762d42e2decd24201616117_medium

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں