اراضی سنٹر فتح‌جنگ میں انتقالات کی جعل سازی کے ذریعے منتقلی، متاثرین کا نوٹس لینے کا مطالبہ

فتح جنگ(صداقت محمود مٹھو سے)
حکومت پنجاب کو پٹواری کلچر کے بدلے میں اراضی سہولت سینٹر سائلین کیلئے اذیت مرکز بن گیا-
انتقالات پر علمدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے شہری کروڑوں روپے کی جائیداد سے محروم ہورہے ہیں –
محکمہ مال کے سہولت سینٹر میں متاثرین کی آہ پکار سننے والا کوئی نہیں عجلت میں پٹواریوں کا نظام ختم کیا تو 2008سے ہر موضع کا 4سالہ نہیں لکھا گیا جس کے باعث انتقالات پر عملدرآمد تعطل کا شکار ہے

تحصیل فتح جنگ کے موضع گگن کے سلطان فیصل نے بتایا کہ کھیوٹ نمبر259اور نمبرات خسرات 1288,1287ہیں رقبہ تعدادی 27-8کنال ملکیتی و مقبوضہ ہے بلالگان رقبہ کے 2انتقالات جعل سازی کے زریعے 28مئی 2016کو اراضی سینٹر میں حوالہ نمبر2319اور2320درج ہوئے جسے یکم جون کو سابق تحصیلدار راجہ طاہر عزیز نے بطور انچارج اراضی سینٹر بعد از پڑتال ریکارڈ رپورٹ ایس سی او رقبہ ہذا بلالگان اور مالکان بلالگان کے حقوق ناقابل تبدیلی قبضہ و ناقابل بیعہ ہے اور رقبہ فروخت نہیں ہو سکتا ہے انتقال خارج ہونے پر مخالف فریق نے اسسٹنٹ کمشنر فتح جنگ کی عدالت میں اپیل دائر کر دی 20جون کو دائر کی گئی اپیل جب 10نومبر کو واپس لی گئی تو ہمیں شک ہوا اپیل واپسی کی کیا وجہ ہو سکتی ہے توا اراضی ریکارڈ سینٹر سے پڑتال پر معلوم ہوا کہ نائب تحصیلدار ملک نثار احمد نے بائعان و مشتریان و گواہان کے ساتھ مل کر سابق تحصیلدار راجہ طاہر عزیز کے حکم کو پس پشت ڈالتے ہوئے خارج شدہ انتقال منظور کر لیاخارج شدہ انتقال ریکارڈ اراضی سینٹر سے غائب کر دیا گیا جس کی نقل ہمارے پاس موجود ہے اسی نمبر کے تحت نئی تاریخ میں اخراج حکم کو ڈیلیٹ کر کے انتقال منظوری کا حکم درج کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ اراضی سینٹر پر بھی کرپٹ مافیا قابض ہو چکا ہے ایسے ریونیو افسران حکومت پنجاب کی گڈ گورنس پر سوالیہ نشان ہیں متاثرہ شخص نے ریونیو افسر ملک نثار احمد اور اراضی سینٹر کے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس حوالہ سے ریونیو آفیسر فتح جنگ ملک نثار احمد نے مذکورہ انتقال کی اپیل میں حاضری کے باوجود اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ مجھے انتقال کے بارے میں کچھ علم نہیں کمپیوٹر سینٹر کے اہلکاروں نے درج کر کے میرے سامنے پیش کیا تو میں قوائد کے مطابق اسے منظور کر لیا جس میں میری کوئی بدنیتی شامل نہیں ہے ساری غلطی کمپیوٹر آپریٹر کی ہے اسی حوالہ سے اے ڈی ایل آر فرخ جاوید نے کہا ہے کہ متاثرہ شخص کی شکایت پر سافٹ وئیر انکوائری شروع کر دی ہے لاہور اپنے ہیڈ کوارٹر میں بھی رپورٹ کر چکا ہوں ابھی تک یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ کس اہلکار نے یہ انتقال فارورڈ کیا متاثرین کو انصاف ملے گا کرپشن اور مک مکا کے بارے میں سوال کے جواب پر اے ڈی ایل آر نے کہا ہے کہ اس حوالہ سے میرے پاس کوئی تحریری شکایت آئے تو میں کرپٹ اہلکار کے خلاف کاروائی کروں گا باہر گیٹ پر واضح تحریر ہے کہ سرکاری فیسیوں کے علاوہ کوئی رقم نہ دے۔

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں