اٹک: پولیس کو مشکوک افراد کی نشاندہی کا شاخسانہ، مظلوم شہری پولیس گردی کا شکار

اٹک(ڈسٹرکٹ رپورٹر)پولیس کومشکوک افراد کی نشاندہی کا شاخسانہ بھگتنے والا مظلوم شہری انصاف کے لیے جگہ جگہ دھکے کھانے پر مجبور. پولیس گردی کے خلاف آئی جی پنجاب آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک کو درخواست دے دی.
تفصیلات کے مطابق غلام فرید ولد محمد افسر ساکن ماڑی لنک روڈ اٹک شہر نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ عثمانیہ مسجد سے متصل کباڑ کی دکان کرتا ہے. 14نومبر کی شام 4نامعلوم اشخاص میری دکان پر آئے ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ میرے بیٹے نے آپ کے کباڑ سے ایک موٹر سائیکل خریدا ہے میں نے اپنی دکان کے ملازمین میں سے شناخت کروائی تو انہوں نے کہا کہ ان میں سے کوئی آدمی نہیں ہے. جس سے ہم نے موٹر سائیکل خریدا
اس واقعہ سے تین روز قبل میری کباڑ کی دکان پر ماڈل پولیس سٹیشن تھانہ سٹی میں تعینات سب انسپکٹر محمد اکرم آیا. اور موٹر سائیکل کے پرانے ٹینکی اور ٹاپے پوچھے. میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں ضرورت ہیں تو اس نے کہا کہ کسی آدمی پر پرچہ دینا ہے. میں نے انہیں ضمناً کہا کہ کسی بیگناہ کو کیوں جھوٹے مقدمے میں ملوث کرتے ہو. ایس آئی محمد اکرم ٹینکی اور ٹاپے اٹھا کر بغیر رقم دیے چلا گیا. اور مجھے تھانے میں بلا کر ایس ایچ او کی موجودگی میں غلیظ گالیاں دیں اور بعد ازاں میرے گھر پر رات 1بجے چھاپہ مار کر میرے بچوں کو اور اہلِخانہ کو مارا پیٹا گیا. زنانہ پولیس کی عدم موجودگی کے باوجود میرے گھر میں گھس کر میری بیوی کو غلیظ گالیاں دے کر گھسیٹا گیا.

مظلوم شہری نے درخواست میں لکھا ہے کہ سائل کے بیٹے کے خلاف ایس ایچ او ملک ارشد اور ایس آئی محمد اکرم نے باہمی مشاورت سے تھانہ سٹی میں جھوٹا مقدمہ درج کیا اور تین دن تک بغیر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے محبوس رکھا. میری درخواست پر مجسٹریٹ نے میرے بیٹے کو طلب کیا اور مستغیث کی گواہی پر کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے ضمانت پر رہا اور بعد ازاں باعزت بری کر دیا گیا. غلام فرید نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے اب بھی ان پولیس اہلکاران سے خطرہ ہے کہ وہ اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث نہ کر دیں یا اغوا یا قتل کروا دیں . پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ میری داد رسی فرمائیں .

تبصرے

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں